نئی دہلی،11؍جون (ایس او نیوز؍پریس ریلیز) ہمارا ملک ایک جمہوری و دستوری ملک ہے، اس ملک کے اندر قانونی طور پر ہر مذہب کے ماننے والوں کو آزادی اور عزت کے ساتھ جینے اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق ہے، اس ملک کا دستور ہر مذہب کے رہنماؤں اور مذہبی اصولوں کا احترام کرتا ہے، کسی کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی بھی مذہب کے رہنما کے بارے میں بدزبانی، بدگوئی کرے اور اس سے بری بات منسوب کرے۔ ہر مذہب کا احترام کرنا سب پر ضروری ہے؛ لیکن کچھ دنوں سے خاص طور پر 2014 میں بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد سے پورے ملک کے اندر سنگھ پریوار کے تربیت یافتہ فاشسٹ جماعت کے لوگ نبی پاک ﷺ اور حضرت عائشہؓ کی شان میں آئے روز گستاخیاں کرتے ہیں۔ اس سے پہلے کرناٹک کے اندر واقعہ پیش آیا، ابھی نوپور شرما، نوین جندل اور یتی نرسنگھانند وغیرہ جو کر رہے ہیں یہ غیرقانونی مجرمانہ حرکت ہے۔
آل انڈیا امامس کونسل کا مطالبہ ہے کہ ایسے لوگوں کے خلاف فوری طور پر قانونی کارروائی کی جائے، ان لوگوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ حکومت ایسے لوگوں کے خلاف سخت قانون بنائے جو دوسرے مذاہب کی اہم مذہبی شخصیات اور مذہبی اصولوں کا احترام نہیں کرتے، اور ان پر سخت قانونی کارروائی کرے۔
ملک کے اندر اس وقت آر ایس ایس کی جانب سے جو بی جے پی کو سپورٹ کر رہی ہے، پورے ملک میں دلتوں، آدیواسیوں اور مسلم کمیونٹی کو ستایا جا رہا ہے، ان پر ظلم ہورہا، ان کی لنچنگ ہورہی ہے اور ان کی مسجدوں کا احترام ختم کیا جا رہا ہے، مسجدوں اور درگاہوں پر جےشری رام کے نعرے اور جھنڈے لگائے جا رہے ہیں۔ یہ سب مسلم نسل کشی کے منصوبے کا حصہ ہے۔ اس کو فوری طور پر روکا جائے اور عدالت اس کے خلاف فوری طور پر کارروائی کرے۔
بابری مسجد کے فیصلے کے بعد سے سنگھ پریوار کے غنڈوں کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں، اس لیے جامع مسجد گیان واپی، عیدگاہ مسجد متھرا، ٹیلےوالی مسجد لکھنؤ، قطب مینار، جامع مسجد دہلی اور دیگر تاریخی مذہبی مقامات کے متعلق 1991 میں پارلیمنٹ سے پاس شدہ قانون ہے کہ 1947 میں جو عبادت گاہ جس حال میں تھی وہ اسی طرح برقرار رہے گی۔ لیکن سنگھ پریوار کے لوگ یکے بعد دیگرے جھگڑا پیدا کرنے کے لیے کہیں شیولنگ نکال رہے ہیں، کہیں پر مندر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو کبھی اورنگزیب اور دیگر بادشاہوں کو نشانہ بنا کر مسلمانوں کی ہتک عزت کرتے ہیں۔ ان سب کے خلاف حکومت فوری طور پر کارروائی کرے، یہ ہمارے ملک کو توڑنے اور کمزور کرنے کے لیے سازشیں چل رہی ہیں؛ اس لیے ہم اس کے خلاف ہیں۔ اور ان سب چیزوں کو ہم کنٹرول کرنے کا حکومت سے اور عدالت سے مطالبہ کرتے ہیں۔
آل انڈیا امامس کونسل قانونی اور دستوری طور پر ملک کے تمام باشندوں سے گزارش کرتی ہے کہ وہ عدالتی اور قانونی کارروائی پر یقین رکھیں اور جمہوری طریقے سے اپنے حقوق کی لڑائی لڑیں۔ یہی آل انڈیا امامس کونسل کرتی ہے۔ اس وقت جو ناموس رسالت کے خلاف پروپیگنڈہ چل رہا ہے یہ ملک کے خلاف سازش کا حصہ ہے۔ اس کی وجہ سے ہمارا ملک دنیا کے سامنے شرمندہ ہوگیا ہے۔ جس کی ذمہ دار بی جے پی حکومت ہے۔ لہذا حکومت اپنے اس کردار کو بالکل ختم کرے اور جو پروپیگنڈہ چل رہا ہے اس کو فوری طور پر روکے۔یہ ہمارے ملک اور اس کے مستقبل کے لیے اچھا نہیں ہے۔